Saturday, September 24, 2022
Homeمختصرہیرو اور ہیروئن

ہیرو اور ہیروئن

(رومانٹک ناول)

زویا خان

وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا جارہا تھا، آٹھ فٹ سے بھی نکلتا ہؤا قد، تربوز کی طرح سرخ رنگت ، یہ لمبے چوڑے ہاتھ پاؤں اور بہت ہی لمبا ساطویل نام ، جی ہاں یہ ہمارے رومانٹک ناول کے ہیرو صاحب ہیں، جنکے سر پر ہمیشہ غصہ ہی سوار رہتا ہے،۔ کیوں رہتا ہے؟ کیا انکو کوئی نفسیاتی عارضہ لاحق ہے، ناول کی طوالت کے خیال سے ہم اس بحث میں نہیں پڑیں گے۔ہیرو کے ایک جانی مانی دشمن بھی ہیں جو ہیروئن کے والد ہیں، چونکہ وہ ہیروئن جی کے والد ہیں اس لیے انکا ظالم جابر ہونا ضروری ہے ، اب چاہے وہ بیچارے کتنے ہی شریف النفس اور عزت دار کیوں نا ہوں، برسوں پہلے ہیروئن کے پاپا نے ہیرو کے اماں ابا پر کوئی ظلم ڈھا دیا تھا جسکے باعث وہ بدلے کی آگ میں جلتے بھنتے جوان ہوئے تھے، کم از کم ہیرو جی کو ایسا ہی لگتا تھا۔یہ تو ہوگیا رومانی کہانی کا فارمولا پس منظر، اب آ گے چلتے ہیں۔

ہاں بھئ کیا رپورٹ ہے؟۔ ہیرو انتہائی غصے سے اپنے خاص آدمی سے مخاطب تھے،۔ آگے پیچھے گارڈز کا ہجوم تھا، غریب ملک کے سب سے امیر آدمی تھے،۔ گاڑیوں اور بنگلوں کی گنتی کرنا مشکل تھی،۔ سر لڑکی کالج کے لیے نکل گئی ہے، ہممم ٹھیک سے اٹھا لو،ہیرو صاحب باپ کا بدلہ بیٹی سے لینا چاہتے تھے،۔ ویسے تو انکے دشمن کے کئی بیٹے ، بھائی بھتیجے بھی تھے، گھر مردوں سے بھرا تھا لیکن بہت بہادر اور انتہائی غیرت مند ہیرو کو بدلہ لینے کے لیے ایک کمزور لڑکی بڑی مناسب لگی۔

اغواء کر لاے، فارمولے کے مطابق اب شادی بھی ضروری تھی تو چار پانچ دوست خیر سگالی کے طور پر خود ہی پہنچ گئے ساتھ مولوی صاحب کو بھی پکڑ لائے، چلو جی نکاح ہؤا،۔ یار دوستوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا گیا، وہ اپنا سا منہ لے کر نکل گئے۔ویسے تو نکاح ایک انتہائی مقدس رشتہ ہے لیکن رومانی ناول ہے تو۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیرو صاحب تن فن کرتے ہیروئن کے پاس پہنچے ، چونکہ وہ ہیروئن تھیں اس لیے انکا حسین ترین ہونا بھی ضروری تھا،۔ مگر کیا کرنا حسن کا، جب درگت ہی بننی ہے تو۔ ہیرو صاحب کا ذوق وشوق دیکھ کر تو کتے بلے بھی شرما گئے، گدھے گھوڑے بھی منہ چھپاتے پھرتے۔ ہیروئن جی کا شام سویرے ایک ہی کام تھا، پٹنا، پٹنا اور پٹنا۔ قارئین حیران نا ہوں، رومانی ناولوں میں ہیروئن کا پٹنا لازم ہوتا ہے۔ و ہ دن رات مار کھاتیں ، صبح پھر ہشاش بشاش ہو کر گھر کے کاموں میں جت جاتیں، ہیرو کا من پسند ناشتہ بھی بناتیں باقی بھی سارا کام کیے جاتیں، کبھی ہیرو ہاتھ گھما کر تھپڑ دے مارتے، تو کبھی گالیوں سے سواگت کرتے، کبھی لوہے کی راڈ سے سر پھاڑ ڈالتے تو کبھی دونوں ہاتھ اٹھائے ہیروئن کے والد کو کوسنے دیتے۔میڈیکل سائنس کے مطابق کوئی بھی انسان مسلسل تشدد نہیں سہہ سکتا اور خاص کر صنف نازک تو بالکل نہیں، ایسی صورت میں موت واقع ہوسکتی ہے، لیکن چونکہ یہ ایک رومانی ناول ہے تو ، میڈیکل سائنس کی ایسی کی تیسی۔ہماری ہیروئن تو ٹارزن کی اولاد ہوتی ہیں، ٹوم اینڈ جیری کی طرح چاہے جو مرضی کرلو پھر سے صحیح سلامت چاق وچوبند کھڑی ہوئی۔ایک اور اہم فرد تو ہم بھول ہی گئے ، ایک ایسی خاتون جو مسلسل ہیروئن جی کا مورال بلند رکھیں تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ ظلم وبربریت سہہ سکیں، وہ کوئی بھی ہوسکتی ہیں، ہیرو کی اماں، دادی یا کوئی پرانی بوا وغیرہ،ہم یہاں اماں کو رکھ لیتے ہیں۔تو اماں جی شام سویرے بہو کا نا صرف حوصلہ بڑھاتی رہتیں بلکہ انہیں شوہر کے حقوق کا پاٹ بھی خوب پڑھاتیں۔ البتہ بیٹے کو انسانیت کے جامے میں رہنے کا انہوں نے کبھی نا کہا تھا۔

وقت گذرتا رہا ،ہیروئن پٹتی رہیں ، زخم زخم ہوجاتیں ، نیل پڑجاتے،۔ لیکن ٹارزن کی کبھی ہڈیاں نا ٹوٹیں نا مریں۔راڈ جو پڑی تو سر پھٹ گیا بھل بھل خون بہنے لگا ہیرو جی نے ڈاکٹر بلا دوچار ٹانکے لگوادئے اللہ اللہ خیر صلا۔ایک دن کچن میں کھڑی دھڑا دھڑ روٹیاں پکا رہی تھیں کہ ہیرو نے آکر بازو جکڑ کر کھانے کا پوچھا، ویسے یہ بات بازو جکڑے بغیر بھی پوچھی جاسکتی تھی، لیکن چونکہ یہ ایک رومانی ناول ہے تو۔۔۔۔۔۔اسی طرح ایک دن اماں کا پوچھنے آئے تو جبڑا ہی دبوچ لیا، اب بندہ بولے کیسے؟ یہ سب رومانی ناول کا لازمی جزو ہوتا ہے، چاہے کوئی تک بنتی ہو یا نہیں۔ قارئین سمجھدار ہیں۔

بہت دنوں سے ہیرو صاحب کو کچھ کچھ ہورہا تھا، کیا ہورہا تھا ، دوست نے بتایا پیار ہورہا تھا ، چلو جی نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی۔کمرے میں ایک عدد ڈریسنگ ٹیبل کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے جس میں ہیرو جی ہیروئن کو دیکھیں اور پٹ پٹ کر مربہ بن جانے کے باوجود ہیروئن جی شرمائیں۔دن رات کی ماریں کھانے اور طعنے تشنے سننے کے باوجود ہیروئن جی ہیرو کی محبت میں بری طرح مبتلا ہوچکی تھیں۔ گو کہ یہ بات انسانی نفسیات کے بالکل متضاد ہے اور ایسے شخص سے فطری طور پر شدید نفرت ہوجاتی ہے ، لیکن چونکہ یہ ایک رومانی ناول ہے تو۔۔۔۔۔۔۔خیر تو لاتیں گھونسے تھپڑ راڈیں کھاتے کھاتے ان کے دل میں ہیرو جی کے لیے بے پناہ محبت کے جذبات پیدا ہوگئے اور جس دن ان پر بلڈوزر چلا دیا گیا تب تو گویا محبت کا جوار بھاٹا ہی پھوٹ پڑا۔ کچھ دنوں بعد ہیرو کو معلوم ہؤا ہیروئن کے والد تو بے قصور ہیں ، ہائیں اب کیا کریں؟ ویسے تو ضروری نا تھا لیکن فارمیلٹی بھی کوئی چیز ہے، تو انہوں نے آکر ہیروئن کو سوری کہہ دیا، اور ہیروئن اور انکے گھر والوں نے سب کچھ بھلا کر ہیرو کو کھلے دل سے معاف کر دیا، اور سب ہنسی خوشی رہنے لگے۔اسکے ساتھ ہی ایک اور تھرڈ کلاس رومانٹک ناول کا اینڈ ہوتا ہے۔شکریہ ختم شد

Previous articleرمضان اکرام
Next articleافطاری

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
3,499FollowersFollow
0SubscribersSubscribe