Thursday, September 22, 2022
Homeافسانہہمزاد سے انتقام

ہمزاد سے انتقام

احسن مرتضٰی

اس نے پانی کی سطح سے دور بلند’ وادیوں کی دوسری طرف ڈھلتے ہوئے سورج کو آخری بار دیکھا اور آنکھیں بند کرتے ہوئے محسوس کیا کے سردیوں کی شام کس قدر کرب تنہائی میں مقید ہوتی ہے۔ سورج اپنے نقطہ غروب کو پہنچ کر صدیوں سے موجود جبلت’ پسند پراسرار اور تحیر سے سرسبز فطرت کے حامل انسان کے رویوں اور کاموں کا بیانیہ دیوتاؤں کو آج پھر بڑے ہی پرجوش انداز میں سنا چکا تھا، وہ آج فقط خود کو دریا کی وسعت اور خاموش متحرک پسندی کا قائل کرنا چاہتا تھا ۔ مچھوارے اور ملاح آج بھی دیوتاؤں کے رزق تقسیم کرنے کی اعتدال پسندانہ روش کے قائل تھے اور اپنے اپنے گھروں کو چل دیے تھے۔اندھیرا اس کے اعصاب کو جکڑنے کی مشقت کرنے لگا تھا اور مٹی کی سوندھی خوشبو اسے بھلی معلوم ہوئی اس نے سگریٹ سلگا کر اپنے بوڑھے کندھوں کو اچکایا۔اچانک پانی کی سطح سے کوئی آبی جانور چھلانگ لگاتا اور اس ہلکی سی لرزش سے اس کے خیالات کے تانے بانے ٹوٹ جاتے۔ اسے رہ رہ کر وہ منظر یاد آتا جب اس کی 15 سالہ اکلوتی سلمہ کو کالج سے آتے ہوئے واپسی پر چودھری نتھوکے غنڈوں نے اغوا کر لیا تھا۔اور اسے یہ خبر محلے کی ایک کٹنی سے دس روپے کے عوض ملی تھی کہ اس کی بیٹی دوسرے دن سے چودھری نتھو کے فارم ہاؤس پر موجود ہے۔تو اسے یہ بھی یاد آیا کہ وہ جب تھانے گیا اور اس نے بابو صاحب سے بیٹی کی بازیابی کی التجا کی تھی تو تھانے دار الٹا اسی کو لے کر چودھری کے پاس آ گیا تھا اور پھر چودھری نتھو نے اسے اس شکایت لگانے کے سنگین جرم کی پاداش میں اپنے ڈیرے پر مرغا بنائے رکھا تھا۔ غرض اس کی بیٹی کو تیسرے دن لوٹا دیا گیا تھا مگر بربریت اور جارحیت اس کے بدن پر رقمطراز تھی۔جمال الدین اس واقعہ کو بھولنا چاہتا تھا چونکہ اس کے دوستوں نےاسے بغاوت کے خطرناک انجام سے آگاہ کر دیا تھا.بس اس واقعے کے ایک ماہ بعد اس نے اپنی بیٹی کو بیاہ دیا اور پھر مے خانے کا رخ کیا.نیند اس کی آنکھوں کی پتلیوں میں نظر آتی تھی کیونکہ اس واقعے کے بعد وہ سویا نہ تھا۔اس نے جام کے جام اپنے خالی معدے میں انڈیلے مگر کسی بھی جام نے اس پر مہربانی نہ کی اور نا مسیحائی سے اسے نوازا۔وہ اس واقعہ کے بعد کوشش کرتا کہ آنکھیں بند نہ کرے کیوں کہ آنکھیں بند ہوتے ہی اسے چوہدری نتھو کا گنجا سر اس کی گالیاں اور سلمہ کے چبائے ہوئے گال نظر آتے۔جیسے ہی وہ آنکھیں بند کرتا خود کو مرغا بنا ہوا دیکھتا۔یقینا تخیل میں بڑی طاقت ہےکیونکہ اب یہی وہ دروازہ باقی تھا جس سے گزر کر فانی انسان لافانی دیوتا کا روپ دھار سکتا ہےاور چودھری نتھو کو سو بار موت کی سزا دے سکتا ہے۔ اس واقعہ نے اس کے اعصاب کو جکڑ لیا تھا،حالانکہ اس نے اپنے ضمیر کوخاموش کروانے کی بڑی کوششیں کیں مگر بے سود۔اور اس طرح پورا دن جہلم کے کنارے گزار دینے کے بعد اسے احساس ہو چلا تھا کہ جگہ بدلنےاور آب و ہوا کے رد و بدل سے بھی ضمیر کی آواز سے بچا نہیں جا سکتا۔اس نے اپنی کم عقلی پر اظہار تاسف کیا اور سگریٹ کا دھواں ہوا میں اچھالا۔خدا جانے کیوں کر وہ اس دریا کے کنارے اتنا سفر طے کرنے کے بعد چلا آیا تھا جہاں اس نے اپنا بچپن گزارا تھا۔وہ شاید سمجھ تھا کہ ایک دن انھیں شاہراہوں پر گزار دینے سےوہ اپنے سنہری دنوں میں لوٹ سکتا ہے۔اور جہاں حال اور ماضی کی یادیں اسے ڈس نہ سکیں گی جہاں وہ پھر سے مچھلیوں کا خدا بن کرروٹیوں کے نوالے دریا کے سپرد کرے گا۔اس نے یہ سب کچھ کیا بھی تھا۔ اور اپنے ماضی کے دریچوں سے جھانک کر اس نے ہر اداسی اور غم کو دریا کی گہرائی میں پھینکنے کی ناکام کوشش کی تھی۔آج اس پر یہ عقدہ کھلا کہ مرنے کے بعدحاصل ہونے والی بوسیدگی اور گمنامی سے ہرگز نہیں بچا جا سکتا اور اس نے آنکھیں بند کرکے یہ بھی تسلیم کیا کہ فانی مخلوق فقط لافانی کام کرکے ہی امر ہو سکتی ہے۔ آج پورا دن کافی مشقت کے بعد جمال الدین نے دریا سےسننے کا فن سیکھا تھا۔اس نے خود سے کہا” کہ درد و غم اور وقت بھی دریا کی مانند ہے۔جس نے تمام خیالات و جذبات سمیت انسان کو گھیر رکھا ہے“۔اچانک اسے ہم ذات سے انتقام لینے کا ایک طریقہ نظر آیا اور اس نے تمام تلخ یادوں کو دریا میں بہا دیا اور یوں چند ماہ بعد اس کی گلی سڑی لاش سلمہ کے سپرد کردی گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
3,490FollowersFollow
0SubscribersSubscribe