Thursday, September 22, 2022
Homeمختصرمیری پہچان دو

میری پہچان دو

طیبہ سلیم

ایک کمزور مریض اسٹیچر میں لیٹا ہوا جب سے یہاں ایڈمٹ ہوا ہے کبھی کوٸی ڈاکٹر آ کرنٸی دوا تجویز کر دیتا کبھی دوسرے ڈاکٹر کی تبدیلی ہوتی تو وہ نئی دوائی تجویز کر دیتا لیکن اس کی بیماری کوئی بھی تشخیص نہیں کر سکا بلکہ ایک بیماری کے ساتھ ساتھ دوسری بیماریاں بھی جڑپکڑنے لگی اور مذید کمزور ہوتا جا رہا تھا دوا یا انجکشن کے ردوبدل سے نت نئی بیماریاں پروان چڑھ رہی تھی اب اس کی عمر74 ہو چکی تھی اور ابھی تک تجربوں کی بھینٹ چڑھا ہوا تھا کبھی تعلیم کو ڈاکٹر انجیکشن لگا کر چلایا تھا کبھی بھی روزگاری کبھی روٹی کپڑا مکان۔کبھی میں مہنگاٸی کبھی عورت کی آزادی کے نام کے انجکشن لگا کر اس کی بیماری کو تشخیص کیا جاتا اصل مرض کہیں فراموش ہو گیا تھا چند قابل ڈاکٹر آۓ جنہوں نے اس  مریض کی تشخیص کی کہ اس کا مرض اسلامی ریاست کا عملی قیام ہے لیکن ان کی آواز کو دبا دیا گیا اور ان کو میرے علاج سے بے دخل کر دیا اور مجھے نت نۓ دواٸیاں دے کر مذید کمزور کیا جارہاہے میری بیماری بے روزگاری ۔مہنگائی۔عورت کی آزادی میری بیماری اسلامی قوانین کا رائج نہ ہونا ہے جب اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام نافذ ہوا تب ہی میں توانا صحتمند ہو جاؤں گا کیونکہ میرے جینے کا مقصد تو تھا  میں نے تو پوری دنیا کے لیے اسلامی ریاست کا رول ماڈل بنا تھالیکن یہ شخصیت کی دھجیاں اڑا کر  مجھے مزید پسماندہ  کیا جا رہا ہے اے نوجوانو مجھے میری دوائی کی صیحیح ڈوز دے کر مجھے توانا کر دو۔۔ورنہ میں مزید کمزور ہو جاؤں گا اور دشمنوں کا تر نوالا نہ بن جاؤ۔میری دوائی اسلامی نظام کی جدوجہد ہے آؤ مل کر اس بات کا عہد کریں کہ ہم اپنے ملک پاکستان میں اسلامی نظام کے لیے عملی کوششیں کریں گے میں آج بھی قابل ڈاکٹرز کی تلاش میں ہوں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
3,490FollowersFollow
0SubscribersSubscribe