Wednesday, September 21, 2022
Homeافسانہمحبت سائباں میری

محبت سائباں میری

عنبرین اختر ۔ لاہور



رات ہولے ہولے بھیگتی جا رہی تھی۔ آکاش پر چاند کی قاش کسی سوکھے درخت کی ٹہنی کی مانند اٹک رہی تھی۔ آکاش تاروں سے پْر تھا۔ تاروں کی لو اداس دلوں کے پاس آ کر خوشی کا گیت الاپ رہی تھی۔ چاند کی چاندنی درختوں کی اوٹ سے نکل کر پتوں کے یوں پاؤں چھو رہی تھی جیسے وہ صدیوں سے ان کی منتظر ہو۔
درختوں پہ بیٹھے پنچھی عالمِ سکوت میں گم تھے۔ شہرخاموشاں کی بل کھاتی سرمئی سڑکوں پہ اکا دکا لوگ اپنی گاڑیاں زن سے لیے جا رہے تھے۔ گنجان آبادی میں ہر سو خاموشی طاری تھی ۔ بس ایک گھر سے سسکیوں کی آواز آ رہی تھی۔ ان سسکیوں میں کبھی زار و قطار رونے اور کبھی آنسو پونجھنے کی آمیزش ہوتی ۔ وہ ابھی تک جاگ رہی تھی ۔ اس کا دو سال کا بیٹا اس کے ساتھ ماں کے آنسوؤں سے بے خبر گہری نیند سویا ہوا تھا۔ اس کے بدن پہ جا بجا زخموں کے نشان تھے۔ جن سے خون رس رہا تھا۔ چہرہ آنسوؤں سے تر جس کو وہ اپنے دوپٹے سے صاف کر رہی تھی۔ آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ آج پھر اس نے مار کھائ تھی۔ جب سے اس نے سسرال میں قدم رکھا مار ڈانٹ تو جیسے اس کے مقدر میں لکھ دی گئ تھی۔ وہ روز شوہر کے ہاتھوں روئ کی طرح دھنکائ جاتی۔ اس کی آنکھوں اور بدن کی ایک ایک حرکت میں اضطراب تھا اور درد اس کی ہر ادا سے ظاہر ہو رہا تھا۔ ایمان کے والد کچھ عرصہ پہلے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایمان بڑے ناز و نعم میں پلی بڑی تھی۔سارے گھر میں اس کی شرارتیں ہی تو بھلی لگتی تھیں۔ وہ پورے گھر میں تتلی کی طرح اڑتی تھی۔ کوئ پکڑنا بھی چاہتا تو پُھر سے بھاگ جاتی ۔ باپ کے لاڈ پیار کی وجہ سے وہ اپنی ہر بات منوا کر رہتی۔
کہ اچانک کالا سیاہ لاوا کہاں سے ابل پڑا۔ وہی شفیق باپ جو ایمان کو باہر کی گرم ہوا نہیں لگنے دیتا تھا۔ ایک دن منوں مٹی تلے جا سویا۔ گھر میں جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔صابرہ بیگم پہ جیسے آسمان ٹوٹ پڑا۔ جب بیوگی کا داغ ان کے ماتھے پہ لگا اور الجھنوں اور غموں کی تیز آندھی آئ تو وہ کسی درخت سے کچی شاخ کی طرح ٹوٹ کر زمین پر گرنے لگیں ۔ انھیں اپنے سے زیادہ بیٹی کی فکر رہتی۔ وہ جلد اس کی شادی کرنا چاہتی تھی۔ آخر

کار رفاقت کا رشتہ انہیں پسند آ گیا۔ ماں نے بیٹی کو اپنی آغوش سے جدا کر کے غیروں کے پہلو میں ڈال دیا۔ آج کی رات صابرہ بیگم پہ جیسے بہت بڑا بوجھ سر سے اتر گیا ہو۔ ایمان آنسوؤں کی رم جھم میں میکے سے سسرال آ گئ۔ نئ زندگی کے دن بہاروں اور پھولوں کے سنگ گزرنے لگے ۔زندگی کا یہ روپ ایمان کے لیے خوشیوں بھرا تھالیکن متوسط طبقے میں لڑکی پھولوں کی سیج پہ زندگی نہیں گزارتی۔ رفاقت کی پرچون کی دکان تھی جس سے گھر کا خرچہ چل رہا تھا۔ اس کی ساس شائستہ بیگم تیز طرار اور منہ پھٹ عورت تھی۔ کسی کا لحاظ کئے بغیر منہ پہ سب اگل دیتی تھی۔ رفاقت بھی ہوبہو ماں پہ گیا تھا۔ اندر سے تھوڑا ڈرپوک تھا لیکن ماں کی چالاکیوں نے اسے بھی تیز طرار بنا دیا تھا۔
ایک رات رفاقت کمرے میں جانے لگا تو تو ماں نے فوراً بلا لیا اور کہنے لگی کہ ” رفاقت اس کے کان ذرا کھینچو۔ تمہاری بیوی نہ ہوئ سونے کی ڈلی ہوئ۔ میں بتائے دیتی ہوں اگر آج یہ تیرے ہاتھ سے نکل گئ تو ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔ وہ جہیز مہیں لائ کیا ہے چند جوڑے پرانا فرنیچر اور پلاسٹک کے برتن”۔ اماں میں تیری بات سمجھ رہا ہوں ۔ ارے کم بخت میری باتیں دماغ میں بٹھا لے ورنہ ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔ ایمان سارا دن گھر کا کام کرتی ۔ اوہر سے ساس کی الگ باتیں۔ ماں کے کہنے پہ اب رفاقت روز ایمان کو مارنے لگ گیا تھا۔ کون سا ستم تھا جواس پر نہ توڑا گیا ہو۔ انہی حالات میں ایمان کا بیٹا ہو گیا۔ جس کا نام اس نے ذیشان رکھا۔ بیٹا کیا ہوا ساس اور شوہر نے ظلم کا بازار گرم کر دیا۔ بجائے خوش ہونے کے طرح طرح کے الزام لگائے۔ پتہ نہیں کس کی اولاد یمارے سر تھوپ رہی ہے۔ چل ہٹ یہاں سے کم بخت۔ ساس کی جلی کٹی سن کر اس کا دل ٹوٹ جاتا۔ لیکن وہ پھر بھی معمول کے کاموں میں جتی رہتی۔ تنہائ اور اداسی کے پتھروں تلے آتی تو دکھ اور غم کے آنسو اس کی خشک اور سفید گالوں سے نکل کر اس کا آنچل بھگوتے رہتے۔
محلے کی دو عورتیں کافی دیر سے شائستہ بیگم کے پاس بیٹھی ہوئ تھیں ۔ رفاقت نے دوسری شادی کر لی اور تم نے ہمارا منہ تک میٹھا نہ کروایا۔ ارے بہن میں کیا بتاؤں بس یوں سمجھو ہم تو پھنس گئے۔ جب سے یہ عورت گھر آئی ہے گھر کا سکون ہی ختم ہو گیا ہے۔
ایمان ساری باتیں سن رہی تھی” دوسری شادی” کیا رفاقت کی پہلی بھی بیوی ہے؟ وہ عورتیں کچھ دیر بیٹھ کر چلی گئیں ۔ رات کو رفاقت گھر آیا۔ ایمان جلدی سے کھانا لاؤ بہت بھوک لگی ہے۔ میں کھانا نہیں لاؤں گی خود اٹھ کر کھا لو۔ کیا کہا تم نے ۔ میرے آگے زبان چلاتی ہے۔۔ رفاقت ایک ٹانگ سے دروازہ کھولتا ہوا اندر آگیا۔ شوہر کو غصے میں دیکھ کر اس کا رنگ فق ہو گیا۔ لیکن ان نے حوصلے سے کام لیا۔ تو تم کھانا نہیں دو گی تو کیا یہاں مفت کی روٹیاں توڑنے آئ ہے۔ وہ بیوی کو بالوں سے پکڑ کر باہر لے آیا ۔ اور دو تین لاتیں مارنے لگا۔ بس کرو رفاقت میں تمہاری روز روز کی مار سے تنگ آ گئ ہوں۔اگر تم نے بیویوں پہ یوں ہاتھ نہ اٹھائے ہوتے تو آج تجھے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ مجھے سب معلوم ہو چکا ہے کہ تم اپنی پہلی بیوی کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتے تھے اور اب میری زندگی برباد کرنے پر تلے ہو۔ اب میں تمہاری مار برداشت نہیں کروں گی۔ بلکہ چیخ چیخ کر لوگوں کو بتاؤں گی کہ تم ایک گھٹیا انسان اور بدکردار مرد ہو۔ تم بیویوں پہ ظلم کرتے ہو۔
یہ آنسو جو میری آنکھوں سے بہہ رہے ہیں یہ مجھے انصاف دلائیں گے۔ تم ایک دن ذلیل و رسوا ہو گے۔ دیکھو تو کیسے زبان چل رہی ہے۔ اسے بتاؤ کہ شوہر کے آگے زبان چلا رہی ہے۔ اسے بتاؤ کہ شوہر کے آگے بولنے سے کتنی مار پڑتی ہے۔ رفاقت سٹور سے پٹرول کی بوتل اٹھا لایا اور بیوی پہ چھڑکنے لگا۔ نہیں رفاقت اس کو جلاؤ گے تو قتل بنے گا اس طرح ہم قاتل ٹھہرائے جائیں گے،۔ کسی اور طریقے سے سمجھاؤ اسے۔ دوسرے کمرے میں لے جاؤ دروازہ بند کر کے خوب مارو۔ جب عقل ٹھکانے لگ جائے تو خود ہی سیدھی ہو جائے گی۔ رفاقت کا جب مار مار کر غصہ ٹھنڈا ہوا تو باہر نکل آیا۔ وہ بری طرح رو رہی تھی۔ بدن پہ گہرے زخم تھے جن سے خون رس رہا تھا۔ دو سال سے مار کھا رہی تھی۔ بچہ ماں کے آنسوؤں سے بے خبر گہری نیند سو رہا تھا۔ پھر ایک رات وہ موقع پا کر گھر سے نکل گئی۔ اور سیدھا ماں کے گھر پہنچی ۔ سہیلی تو اس کی کوئ نہیں تھی۔ پھر ماں ہی سہیلی ٹھہری۔ بیٹی کی درد بھری داستاں سن کر ماں بیٹی خوب گلے لگ کر رونے لکیں اور گھر کے در و دیوار پہ اداسی بین کر رہی تھی۔ بس کرو ایمان رونے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ صبر کرو۔ اللہ تمہارے دکھوں کا مداوا ضرور کرے گا۔ آج اگر تمہارا باپ زندہ ہوتا تو کسی کی کیا مجال تھی کہ تمہیں کچھ کہتا ۔ بن باپ کی بچی پہ اتنا ظلم یا اللہ تو ہی مدد کر۔ وقت کے سائے لمبے ہوتے گئے۔ ایمان نے بی۔اے کر لیا اور جاب ڈھونڈنے لگی۔
جلد ہی اس کو ایک اچھی فرم میں جاب مل گئ ۔ زیشان کو اس نے سکول میں داخل کروا دیا لیکن اسے ہر لمحہ رفاقت کا ڈر لگا رہتا کہ کہیں وہ میرے بیٹے کو اپنے گھر نہ لے جائے۔ آفس میں اسے ایک ہفتہ ہو گیا تھا کام کرتے ہوئے۔ محترمہ اس فائل پر اپ نے باس سے دستخط کیوں نہیں کروائے جبکہ کل کی فائل بھی آپ کی میز پہ پڑی بے یوسف نے ایمان کو سمجھانے کے انداز میں بولا۔ معاف کیجئے گا۔ میں بھول گئ تھی۔ میں ابھی ساٰئن کروا کر ٹائپنگ کے لیے بھیج دیتی ہوں۔ یوسف ایمان کے ساتھ آفس میں کام کرتا تھا۔وجیہہ اور پر کشش طبیعت کا مالک تھا۔ اس کے والدین ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اسے ایمان پہلی نظر میں اچھی لگی۔ ایمان جو شرم و حیا کا پیکر تھی خوبصورت نین نقش کی مالک ایمان پر یوسف پہلی نظر میں دل ہار گیا تھا۔
یوسف کو ایمان کے حالات جان کر بہت افسوس ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ ایمان شادی شدہ ہے اور ایک بیٹے کی ماں ہے۔ خوشی اور محبت تو ایمان کے قریب بھی نہ پھٹکی تھی اور یوسف یہ دونوں چیزیں ایمان کو دینا چاہتا تھا لیکن ابھی اسے صبر کرنا تھا۔ رفاقت کو جب دکان سے خسارہ ہونے لگا تو اس نے دکان بیچ کر نشہ کرنا شروع کر دیا۔ جب نشے کے پیسے ختم ہو جاتے تو چوریاں کرتا ۔ پولیس کب سے اس کے پیچھے لگی تھی کیونکہ حال ہی میں رفاقت نے ایک بنک سے بھاری رقم چوری کی تھی۔
آخر ایک دن پولیس کو مجرم پکڑنے کا موقع مل گیا۔ رفاقت نے ایک سٹور سے نقدی چرانے کے لیے اس کے مالک کو یرغمال بنا لیا۔ ملازم جو دوسرے کمرے میں تھا جب اس نے بھیانک صورتحال دیکھی تو پولیس کو فوراًٍ اطلاع کر دی۔ پولیس کو دیکھ کر رفاقت بھاگنے لگا پیچھے سے پولیس نے فائر کر دیا۔ اس کی کمر میں دو تین گولیاں لگیں اور وہ زمین پہ ہی گر گیا۔ رفاقت موقع پہ ہلاک ہو گیا۔ رفاقت کی موت کی خبر ایمان پہ بجلی بن کے گری۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ امی بھی زار و قطار رو رہی تھی۔ ادھر شائستہ بیگم بیٹے کی موت کی خبر سن کر دھاڑیں مار کر رونے لگی۔ صبر بھی اللہ دیتا ہے اس کے سوا کوئ چارہ بھی تو نہیں۔ کمیٹی والے ہر سال عمرے کی ادائیگی کے لیے قرعہ اندازی کرتے تھے۔چنانچہ اس بار بھی تین لوگوں کے نام نکلے جن میں یوسف بھی تھا۔ اس نے ایمان کو حاصل کرنے کاتہیہ کر رکھا تھا۔ احرام باندھ کر یوسف نے غلاف کعبہ کو نمناک آنکھوں سے چوما۔ ہاتھ کے پوروں سے ایمان کا نام لکھا۔ طواف کیے ۔ زیارتیں کیں اور بہت ساری دعائیں مانگیں ۔ خاص کر ایمان کے دل میں اپنی محبت پیدا کرنےکی۔ اس نے تہجد کی دعاؤں میں خاص جسے مانگا تھا۔ آج خاص اسی کے لیے دعائیں مانگ رہا تھا۔
تقریباً پندرہ دن بعد یوسف وطن واپس لوٹ آیا تھا۔ سب دوستوں نے انہیں مبارک دی۔ گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے۔ کئی دنوں تک مبارکباد کا سلسلہ چلتا رہا۔ رات دن کی عبادت گزاری سے یوسف کے چہرے پہ ایسا نور آیا کہ سب دوست کہتے کہ یار اللہ نے تمہارا عمرہ قبول کر لیا ہے۔ تم خوش نصیب ہو وہ جسے چاہے اپنے در پہ بلا لے۔
دن گزرتے جا رہے تھے ایمان کی عدت پوری ہو گئی۔ آج اس کا آفس میں پہلا دن تھا۔ یوسف تو جیسے ایمان کا اصلی مکھ دیکھنے کو بے تاب تھا۔ جب سے ایمان آفس آئ اسے ہر سو بہار لگنے لگی۔ اس کا انگ انگ جھوم رہا تھا۔آج اس نے پکا ارادہ کر لیا تھا کہ چھٹی کے وقت ایمان کو کسی ریستوران لے جائے گااور دل کی بات کہہ دے گا۔ چھٹی کے وقت یوسف نے ایمان کو روک لیا اور کہا میں آپ سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے آپ کو میری گاڑی میں بیٹھنا ہو گا۔
وہ کچھ لمھے سوچتی رہی اور پھر یوسف کے مقابل بیٹھ گئی۔ کچھ دیر کے بعد دونوں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تھے ۔ یوسف نے بغیر موقع ضائع کیے کھل کر بات کہہ دی۔” ایمان آپ جانتی ہیں جب کسی عورت کا شوہر اس کے سر پہ موجود نہ ہو تو دنیا جینے نہیں دیتی۔ طرح طرح کے الزام لگاتی ہے۔ میں آپ کا محافظ آپ کا سائباں بنننا چاہتا ہوں۔ آپ کو مکمل تحفظ دینا چاہتا ہوں۔ آپ کے بیٹے کو اپنا نام دینا چاہتا ہوں۔ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ بخدا آپ کو ہمیشہ عزت اور محبت دوں گا۔ جس کے لیے آپ ہمیشہ ترستی رہی ہیں۔ کبھی کوئی دکھ رنج آپ کے قریب بھی آنے نہیں دوں گا”۔
یوسف کی باتیں سن کر ایمان کا چہرہ لال ہو گیا۔ یوسف صاحب یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں ابھی جہنم سے نکلی ہوں۔ اور آپ پھر مجھے اسی گڑھے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ میرا بیٹا بڑا ہو کر میرا محافظ بنے گا۔ مجھے آپ کی ہمدردی کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں بیوہ ہوں۔ آج تو میں آپ کے ساتھ آ گئی لیکن آئیندہ نہیں لوگ مجھ پہ طرح طرح کے الزام لگائیں گے۔
اسی لیے تو آپ کو پرپوز کیا ہے ۔ یہ دنیا اکیلی عورت کو جینے نہیں دیتی۔میں آپ پر کسی قسم کا الزام برداشت نہیں کروں گا۔توڑ دوں گا وہ ہاتھ جو آپ کی عزت کی طرف اٹھے گا ۔ میں آپ کو چھوڑنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔میں نے آپ سے محبت کی ہے۔ اور یہ وہ چشمہ ہے جس کے سوتے کبھی خشک نہیں ہوتے۔ یہ کہکشاں ہے جو ہمیشہ تاریکیوں میں آکاش کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک نور بن کر پھیلتی ہے۔ بس کر دیں یوسف صاحب میں مزید بحث نہیں کرنا چاہتی ۔ اس نے اپنا بیگ اٹھانا چاہا۔ ایمان صاحبہ میری ایک بات ہمیشہ یاد رکھیے گا “سچی خوشی کی گھڑیاں عمر بھر کی طویل اور اذیتوں بھری زندگی سے بہتر ہوتی ہیں”۔ ایمان نے کچھ اور کہنا مناسب نہ سمجھا اور ریستوران سے باہر نکل آئی ۔ رکشے کو اشارہ کیا اور گھر پہنچ کر دم لیا۔
ایمان کے روکھے پھیکے رویے نے یوسف کے دل میں محبت کی آگ کو اور بھڑکا دیا۔ وہ جانتا تھا اللہ دعاؤں کو رد نہیں کرتا۔ اس نےعینک اتار کر میز پہ رکھ دی اور ایمان کی باتوں کو پھر سے سوچنے لگا۔
اور وہ ناجانے کس کی دعاؤں کے حصار میں تھا۔ کون تھا جو رات دن اس کے لیے دعائیں کر رہا تھا۔ اسے اللہ سے مانگ رہا تھا۔ اور وہ ایک ہی تھا کوئی دوسرا نہ تھا۔ ساری رات وہ یہی باتیں سوچتی رہی۔ اس بانکے سجیلے جوان کا عکس اس کی آنکھوں میں لہرا رہا تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑ لیا۔ نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔صبح سوجھی آنکھوں سے آفس پہنچی ۔ دونوں کی رسمی بات چیت ہوئی۔ واپسی پہ اس نے اپنے بیٹے کو سکول سے لیا سڑک کراس کر رہی تھی کہ ڈاکو اس کا پرس چھیننے لگے۔ ایمان نے شور مچا دیا ۔ اتنے میں وہاں یوسف بھی آ گیا جو گھر جا ریا تھا۔ یوسف کو دیکھتے ہی ڈاکو موقع سے فرار ہو گئے۔ ایمان کا سارا بدن دہشت سے کانپ رہا تھا۔ آ جائیں میرے ساتھ میں آپ کو چھوڑ دوں۔ شکریہ یوسف صاحب میں چلی جاؤں گی۔ یوسف کچھ لمحے ایمان کی شکل دیکھتا رہا اور پھر اپنی گرجدار آواز میں بولا ابھی جو کچھ ہوا اس کے بعد بھی آپ کہتی ہیں کہ چلی جاؤں گی۔ اگر میں موقع پہ نہ پہنچتا تو آپ کے ساتھ آپ کا بیٹا بھی گیا تھا۔ یہاں سڑک پہ مزید تماشا نہ کریں اور ‘خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ جائیں ۔ یوسف نے نہ چاہتے ہوئے بھی بات کہہ دی کہ آپ کے آنے جانے کے لیے کوئی معقول سواری کا بندو بست نا ہوگا۔ ورنہ آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
اس نے ہلکا سا جی کہا اور باہر دیکھنے لگی ۔ کچھ دیر بعد ایمان کا گھر آ گیا۔ اترتے ہوئے اس نے صرف شکریہ کہا اور گھر کے اندر چلی گئی۔
گھر میں پکانے کو کچھ نہ تھا۔ دو دن کی جو سبزی لا کر رکھی تھی۔ وہ بھی ختم ہو گئی۔ یااللہ اب کیا کروں ۔ کس کو مارکیٹ بھیجوں۔ صابرہ بیگم پریشان ہوتے ہوئے بولیں ۔ مجبوراً انہیں خود ہی مارکیٹ جانا پڑا ۔ واپسی پہ سڑک کراس کرتے ہوئے ان کی موٹر سائیکل سے ٹکر ہو گئی۔ راشن دور جا گرا۔ دونوں بازوؤں اور ماتھے پہ خراشیں آئیں ۔ ابھی تو موٹر سائیکل والے نے فوراً بریک لگالی ورنہ پتہ نہیں کیا ہو جاتا ۔یوسف کو باس نے ضروری کام کے لیے باہر بھیجا تھا۔
سڑک پر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر گاڑی روک دی ۔ کال کرنے پر ایمبولینس ابھی تک نہیں آئی۔ یوسف نے انسانی ہمدردی کے تحت ماں جی کو اپنی گاڑی مین بٹھایا اور سیدھا ہاسپٹل لے گیا۔ صابرہ بیگم کو بازو پر ٹانکے لگے ۔ خون زیادہ نکلنے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئی۔ انہیں خون کی اشد ضرورت تھی۔ہاسپٹل میں سوائے یوسف کے کوئی نہ تھا اور اتفاق ایسا کہ ان دونوں کے خون کا گروپ بھی ایک جیسا تھا۔ ماں کے ایکسیڈنٹ کی خبر سن کر ایمان فوراً ہسپتال پہنچی ۔خون کے قطرے جیسے ہی صابرہ بیگم کے بدن میں سرائیت کر نے لگے۔ انہوں نے ہولے ہولے آنکھیں کھول دیں۔ ایمان ماں کے سرہانے بیٹھ گئی۔ پتہ نہیں بیٹا کس نیک دل نے مجھے ہاسپٹل پہنچایا اور مجھے خون دے کر مجھے بچا لیا۔ اللہ اسے اجر عظیم عطا کرے۔ یوسف کے وہم و گمان مین بھی نہیں تھا کہ صابرہ بیگم ایمان کی امی ہیں۔ اس نے تو محض انسانی ہمدردی کے تحت یہ سب کیا تھا۔ ایمان کی دروازے کی طرف کمر تھی جیسے ہی وہ ماں جی کا حال پوچھنے اندر آیا ایمان یوسف کو دیکھ کر حیران رہ گئی۔ یوسف کا بھی یہی حال تھا۔ کیا ماں جی ایمان کی امی ہیں وہ عینک ٹھیک کرتے ہوئے سوچنے لگا ۔ ٹھیک ہوں بیٹا تمہارا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں میرے پاس۔ اگر تم مجھے وقت پہ ہاسپٹل نہ پہنچاتے ، مجھے خون عطیہ نہ کرتے تو پتہ نہیں آج مین کہاں ہوتی۔
ماں جی ایسی باتیں کیوں کرتی ہیں۔ اللہ آپ کو لمبی عمر دے اور آپ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پہ سلامت رہے۔ ایمان نے بھی یوسف کا شکریہ ادا کیا۔ چند دن ہاسپٹل میں رہنے کے بعد یہ لوگ گھر آ گئے۔ یوسف تقریباً روز ہی ماں جی کے گھر جانے لگا۔ ان کا حال پوچھتا زیشان سے ڈھیروں پیار کرتا۔ ایک دن صابرہ بیگم نے یوسف سے پوچھ لیا کی بیٹا تم نے ابھی تک شادی نہیں کی؟ بس ماں جی ابھی تک کوئی ملی ہی نہیں ۔ والدین ایک حادثے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ آپ اچھی سی لڑکی دیکھ کر میری شادی کروا دیں چاہے طلاق یافتہ ہو یا بیوہ ہو ۔ یوسف کے سامنے ایمان کا پیکر لہرا گیا۔اور جب ماں جی نے بیٹی سے بات کی تو ایمان سر تا پا لال ہو گئی۔ امی آپ کیوں میری دوسری شادی کرنا چاہتی ہیں۔مجھے نفرت ہو گئی ہے شادی کے نام سے۔ لیکن ایمان بیٹا زندگی تنہا نہیں گزرتی اگر کل مجھے کچھ ہو گیا تو کون تمہارا خیال رکھے گا۔ زیشان ابھی چھوٹا ہے کیا ساری زندگی ماں کی دہلیز پر بیٹھ کر ہی بال سفید کرو گی۔ میں تمہیں ایسی غلطی ہر گز نہیں کرنے دوں گی۔
اور پھر یوسف میں برائی کیا ہے اچھا خاصا سلجھا ہوا بچہ ہے۔میں تمہیں آخری بار بتا رہی ہوں میں تمہیں ہرگز ایسی حماقت کرنے نہیں دوں گی۔
آدھی رات کا پہر تھا اچانک صابرہ بیگم کے سینے میں درد ھوا ۔ درد ہلکا تھا انہوں نے پانی پیا اور چند منٹ بیٹھی رہیں۔ وہ ایمان کے لیے فکر مند تھیں شاید اسی پریشانی کی وجہ سے ان کے سینے میں درد ہوا تھا۔ ابھی دو دن بھی نہ گزرے تھے کہ صابرہ بیگم کی طبیعت پھر خراب ہو گئی۔چھٹی کا دن تھا۔ ایمان صحن میں بیٹھی بیٹے کو سکول کا کام کروا رہی تھی۔اتنے میں یوسف بھی کافی دنوں بعد ماں جی کا حال پوچھنے آیا۔ اچانک انہیں صابرہ بیگم کی نمناک آواز سنائی دی۔ یوسف اور ایمان دونوں اندر بھاگے۔ امی کیا ہوا ہے آپ کو ایمان تڑپ کر بولی۔ میں ابھی ایمبولینس کو فون کر کے آپ کو ہاسپٹل لے چلتا ہوں۔
یوسف کوٹ کی جیب سے فون نکال کر کال کرنے لگ گیا۔ نہیں بیٹا اس کی ضرورت نہیں تم ادھر میرے پاس بیٹھو۔ یوسف پاس بیٹھ گیا۔ درد کبھی ہلکا اور کبھی تیز ہو رہا تھا۔
بیٹا تم نے میری جان بچا کر مجھ پہ بہت بڑا احسان کیا ہے۔ میں اس کابدلہ نہیں دے سکتی ۔ آج میں اپنی بیٹی کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں دیکر شاید اس احسان کا بدلہ اتار سکوں۔ میں ایمان کو اللہ کے بعد تمہارے حوالے کرتی ہوں۔ وہ دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ میں دیتے ہوئے بولیں۔
امی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ ایمان میری بچی مجھے معاف کر دینا مجھے جو بہتر لگا میں نے کر دیا۔ میری وصیت میں تم دونوں اپنی خوشیاں لکھ لینادرد حد سے بڑھتا جا رہا تھا ان کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں۔ امی ۔ ماں جی آنکھیں کھولیں ۔دونوں کی آوازیں ان کے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔ پھر ایک معصوم مسکراہٹ ہونٹوں سے سجائے ان کی روح پرواز کر گئی۔ایمان ماں کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رہنے لگی۔
زیشان ماں کو روتا دیکھ کر اندر آیا۔ یوسف نے زیشان کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
3,490FollowersFollow
0SubscribersSubscribe