Thursday, September 22, 2022

جمود

کرن عباس کرن

ساکت و جامد جھیل میں ایک خفیف و ادنیٰ سے کنکر کو میں نے اس طَور سے پھینکا کہ جھیل کے جمود پر ایک کاری ضرب پڑی۔ لمحاتی اضطراب و انقلاب کی یہ کیفیت چار دانگ جھیل میں  محسوس کی گئی۔ میں سر جھکائے پھر سے اس ہلچل کو خاموشی میں بدلتے دیکھ رہا تھا۔

بوڑھا مچھیرا، چند مسافت دوری پر  کسبِ ریاضت سمیٹ کر تھکے ماندے سلطانِ شرق و غرب کے ہمراہ، سکون گاہ کی سمت گامزن تھا کہ اس کی نظر مجھ پر پڑی، ہمیشہ کی طرح ایک نگاہِ افسوس مجھ پر ڈال کر وہ آگے بڑھ گیا۔ یہ اس کا معمول تھا، وہ میری صورت میں اپنی ضد دیکھتا تھا۔  وقت کے مدارج تہہ کرتا، وہ بچپن سے جوانی، پھر بڑھاپے کو پہنچ کر آفتابِ شام میں ڈھل چکا تھا۔ بقول اُس کے اُس کی حیات، حرکت مسلسل اور چلت پِھرت سے معمور اور میری زندگانی جمود و ثبات کی پرتوں میں کہیں دفن ہو چکی ہے۔

’’تم ایک زندہ مردہ ہو، زندگی تو گردش کا نام ہے۔‘‘ وہ اکثر یہ بات کہتا۔ ’’جوانی ہلچل ہے، شور ہے، طوفان ہے۔ زندگی کو حرارت بخشنے کا نام ہے لیکن تم ساحل کی گہرائی میں گم ایک چپ ہو، وقت کی رکی ہوئی ساعت ہو، یا پھر صدیوں پرانی کسی ریت پہ ثبت کوئی جیواشم ہو۔‘‘ وہ بغیر کسی تغیر کے ہر دن یہی الفاظ دہراتا اور اسی برسوں پرانی پگڈنڈی پہ گِنے چُنے قدموں سے واپس روانہ ہو جاتا، جو اس کی گام زنی سے یوں آگاہ ہو چکی تھی جیسے بچہ ماں کی آغوش سے مانوس ہوتا ہے۔

میری نگاہیں اسے روز دور جاتا دیکھتی چلی جاتی اور وہ بےحرکت، ساکت و جامد، یکسانیت میں ڈوبی حیات کو گھسیٹتے ہوئے نگاہوں سے سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

ایک زمانے سے، ایک طور سے جینے کے باوجود وہ سمجھتا ہے کہ مسلسل حرکت پزیر ہے۔ مَیں اس عملِ انتقال کو زمین کی گردش گردانتا ہوں، جو ان گنت برسوں سے اپنے ہی مدار میں گول چکر کاٹ کر سمجھتی ہے کہ مسلسل حرکت میں ہے۔ اور اس پہ چلتے پھرتے انسان بھی اس کی ہمراہی میں محو سفر ہیں۔ نہ وہ، نہ ہی بوڑھا مچھیرا یہ جان سکتے کہ قدرت کی منشا سے، مجسمے کی طرح غیر فعال، ساکت انسان چاہے تو ایک جگہ رہ کر بھی اوجِ افلاک کو چھو سکتا ہے۔

میں جب بوڑھے نقاش کے سامنے یہ الفاظ دہراتا ہوں تو اُس کے چہرے کی رنگت بدل جاتی ہے، جھریوں بھرے چہرے پہ اضطراب واضح ہو جاتا ہے، اُس خاموش بوڑھے ساحل کے لبوں کو ویسے ہی گویائی مل جاتی ہے جیسے خاموش جھیل میں کنکر پڑتے ہی ہلچل بیدار ہو جاتی ہے۔

’’نا بیٹا نا۔ اندر کے گورکھ دھندے بڑے سخت ہوتے ہیں۔ انسان بظاہر ایک جگہ پڑا رہتا ہے، لیکن سفر کی سختی سے اس کی روح چھلنی ہو جاتی ہے۔ منزل پھر بھی نہیں ملتی۔ اندر کا سفر، سفر در سفر ہے۔ یہاں کوئی پڑاؤ نہیں، کوئی منزل نہیں۔ یہ بھی گردش ہے، یہ بھی گول چکر ہے۔ منزل کوئی نہیں۔ منزل کوئی نہیں۔‘‘ وہ بار بار یوں ہی بڑبڑاتا رہا۔ اور ایک بار پھر اس کے لبوں نے جھیل کی طرح خاموشی اوڑھ لی۔ اب جب تک اس کی خاموشی پہ کاری ضرب نہ پڑے، وہ یوں ہی خاموشی اوڑھے اپنے کام میں مگن رہے گا۔ بظاہر ایک کمرے میں مقفل، وہ لکڑی پر نقاشی اور کندہ کاری کے ذریعے نئے فن پارے تخلیق کرتا رہے گا، درحقیقت وہ ایک لامکاں سفر پہ گامزن اسرار و رموز کی تہہ در تہہ پرتیں ہٹاتا، آگے بڑھتا چلا جائے گا۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ان دو سن رسیدہ اشجار میں جمود کس پر طاری ہے۔ کون حرکت میں ہے۔ وہ جو سال ہا سال اپنے مدار میں گول چکر کاٹتے ہوئے حرکت پزیر ہے یا پھر وہ جو ایک کمرے میں گم، برسوں سے ساکت، انجان راہوں کا مسافر ہے۔ یا پھر دونوں ہی بےمنزل، اپنے مدار میں منڈلا رہے ہیں؟

یہی سوال میں نے گونگی جھیل سے کیا، جہاں اب شام کے دھندلکے کی گہرائی اترنے لگی تھی۔ ’’جمود تو محض تم پر طاری ہے۔ بوڑھا مچھیرا ہو یا نقاش دونوں حرکت میں ہیں۔ ایک ظاہری چلت پھرت پہ مامور اور دوسرے کا باطن حرکت پزیر۔ ایک ظاہری جسم کے لیے تگ و دو میں مصروفِ عمل ہے تو دوسرا روح کی غذا کی خاطر۔ تم تو دماغ کے گرداب میں جکڑے ایک قیدی ہو۔ نہ ذہن کسی سفر پہ آمادہ، نہ تمہاری روح طلب گار  ہے، نہ ہی قدم مائلِ مسافرت۔‘‘ جھیل سے کیے گے سوال کا جواب میرے من کی خاموش جھیل میں اٹھتی ہوئی ہلچل نے دیا۔ ’’اور یہی حقیقت ہے۔ مجھ پہ طاری جمود پر زمانے کی انگڑائی، وقت کا شور و غل، بھی بےاثر جاتا ہے۔ اندر کے گورکھ دھندے ہوں یا باہر کے بکھیڑے، میرا ان دونوں سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ میں تو خود ایک معما ہوں۔ جب تک میں خود پر آشکار نہ ہو جاؤں، یہ جمود جاری و ساری رہے گا۔‘‘ شب سیاہ کی پھیلتی تاریکی میں، مَیں خود سے ہمکلام، اپنے وجود کی تاریکی میں گم، راہیں ٹٹولتا کسی سمت کی تلاش میں آگے بڑھتا چلا رہا ہوں۔

Previous articleغزل
Next articleرمضان اکرام

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
3,490FollowersFollow
0SubscribersSubscribe