Saturday, September 24, 2022
Homeافسانہافطاری

افطاری

ثمرین مسکین

طیبہ تمہارا روزہ ہے کیا؟ثمن کے پوچھنے پر طیبہ نے سر ہاں میں ہلایا۔ساری بچیاں کلاس میں بیٹھی ایک دوسرے سے پوچھ رہی تھیں کہ کس کس کا روزہ ہے؟اور ماشاءاللہ تقریباً سارے بچوں کا روزہ تھا،رمضان شروع ہوا اور بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں نے بھی شوق سے روزے رکھنے شروع کیے۔پہلا روزہ تو سب بچوں نے رکھا لیکن دوسرا بھی خوشی خوشی تقریباً سب بچوں نے رکھاہواتھا۔مس فریحہ پیپر چیک کرنے میں مصروف تھیں اور ساتھ ساتھ بچوں کی گفتگو بھی سن رہی تھیں۔اب باری آئ سب سہیلیوں کی یہ بتانے کی کہ کل افطاری میں انکے دسترخوان پہ کیا کیا بناتھا؟کسی نے کہا:قیمہ کسی نے کہا:پلاؤکسی نےکہا:مٹن کسی کے ہاں چاول اور کسی کے ہاں گوشت۔گویا سب کے دسترخوان لذیذ کھانوں سے سجے تھے۔ثمن نے خاموش بیٹھی طیبہ کو مخاطب کرکے کہا:طیبہ تم کہاں گم ہو؟تم نے بتایانہیں کل افطاری میں کیا تھا تمہارے گھر؟طیبہ جو ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی بچی تھی،اسی سوال سے تو گھبرارہی تھی کہ وہ کیا بتائے کہ اسکے گھر افطاری میں کیاتھا؟طیبہ نے خاموشی سے جھرجھری سی لی،کل شام کو ہونے والے واقعے کویاد کرکے اسکی نیلی آنکھوں میں نمی تیری لیکن کمال ضبط سے آنکھوں میں آئ نمی کو چھپاگئ۔طیبہ نے کہا :کل بابا نے کباب بنائے تھے بہت ہی مزےدارتمام لڑکیوں نے واہ واہ کیا۔کیونکہ سب کے گھروں میں افطاری کی تیاری انکی امیوں نے کی تھی۔طیبہ کی بات سن کر مس فریحہ نے نظر اٹھاکرطیبہ کو دیکھا،ایک لمحےکےلیے دونوں کی نظر آپس میں ٹکرائ،طیبہ نے فوراََ آنکھوں کو نیچے کیاکہ کہیں جھوٹ کی لکیر مس پڑھ نہ لیں اور مس نے اس لیے فوراً توجہ ہٹائ کہ طیبہ کا برہم نہ ٹوٹے۔طیبہ،طیبہ بچے جلدی آجاؤ،جلدی جلدی شربت بنالو افطاری کا وقت ہونے والا ہے اور بیٹھ کر اطمینان سے دعا کرو،اللہ پاک روزے دار کی دعائیں بہت جلدی قبول کرتا ہے۔طیبہ نے کہا جی امی ٹھیک ہے،میں بنادیتی ہوں۔ثریا بیگم (طیبہ کی امی)نے احمد کو دوپٹے کے پلو سے کچھ پیسے کھول کے دیے کہ جاکر کھجوریں لے آؤ ،لیکن احمد خالی ہاتھ لوٹا کھجوریں مہنگی تھیں اور پیسے کم۔ثریا نے کہا:کوئ بات نہیں آج پانی سے افطاری کریں گے،کل ان شاءاللہ ،باجی کام کے پیسے دے دیں گی میں بہت ساری کھجوریں لاؤں گی۔طیبہ شربت بناکرلائ ،انکا دسترخوان بس شربت سے ہی سجاہواتھا،اتنے میں انکا ابا لڑکھڑاتا ہوا گھر میں داخل ہواطیبہ سہارا دینے کو آگےبڑھی،ابا نے غرا کراسے پیچھے کو دھکیلا خود لڑکھڑاتا ہوا دسترخوان سے گرتے پڑتے گزرا اور دسترخوان پر پڑا اکلوتا شربت کا جگ یہ جاوہ جا۔۔۔طیبہ جلدی سےآگے بڑھی فوراً جگ اٹھایا لیکن ،جگ خالی ہوچکاتھا۔اباکمرے میں جاچکاتھا۔تینوں نے ایک دوسرے کو بےبسی سے دیکھا،مئوذن نے اللہ اکبر کی صدابلند کی۔۔طیبہ ،اسکی امی اور احمد نے افطاری کی دعاپڑھ کر سادہ پانی سے افطاری کرکے اللہ کا شکر اداکیا۔طیبہ کلاس روم میں بیٹھی اس وقت کو یاد کرکے خوب روناچاہتی تھی،لیکن وہ اللہ کی ناشکری نہیں کرناچاہتی تھی۔اور وہ جھوٹ بول کربھی مطمئن نہیں تھی،پرکیاکرتی بھرم بھی نہیں توڑناچاہتی تھی۔۔۔۔۔تفریح کےوقت مس فریحہ نے سٹاف روم میں اساتذہ کو طیبہ کے بارے میں بتایا،انکی آنکھوں میں نمی تیرگئ کہ کیسے ایک چھوٹی بچی،نےاپنا برہم قائم رکھا،وہ شدتِ غم سے روپڑیں کہ شاید ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں کہ:وہ لوگوں سے لپٹ کرسوال نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔سٹاف روم میں موجود سٹاف نے طیبہ کی مدد کرنے انکے گھر معمول کے مطابق راشن بھیجنے کا پلان کیااور وہ ایسے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہو۔۔سارے اساتذہ بہت پرجوش تھے سب نے اپنے اپنے حصے کے پیسے ڈالے چوکیدار کودیے کہ وہ راشن لےآئے۔۔چوکیدار راشن لےآیا،تمام اساتذہ نے مل کر خوبصورت تحفے کی صورت پیکنگ کی،مس ندا نے راشن طیبہ کے گھر تک پہنچانے کی ذمہ داری لی اور خاموشی سے سامان انکے گھر دےدیاطیبہ کی امی بہت خوش تھیں اور انکو دعائیں دےرہی تھیں جن نامعلوم لوگوں نے انکے گھر راشن دیا۔آج کی افطاری انکی بھی شاندار تھی انکا پور پور اللہ کے شکر میں ڈوباہواتھا۔اگلے دن مس فریحہ نے چپکے سے طیبہ کے چہرے کو دیکھا جس پہ اطمینان ہی اطمینان تھا۔وہ خوشی خوشی سب کو بتارہی تھی کہ کل کی افطاری کیسی تھی۔مس فریحہ نے بھی خود کو ہلکا پھلکااور پرسکون محسوس کیاکہ اللہ نے انہیں چن لیاتھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

Advertisingspot_img

Popular posts

My favorites

I'm social

0FansLike
0FollowersFollow
3,495FollowersFollow
0SubscribersSubscribe